…زمین متنازعہ ہے ایسی زمین پر مسجد بنانا

…زمین متنازعہ ہے ایسی زمین پر مسجد بنانا

Sawaal:

شہر رانچی کے مین روڑ میں ایک پرانی مسجد واقع ھے اب اسکی توسیعی کا ارادہ مسجد کمیٹی کے طرف سے ھوا ھے مسجد کے آس پاس کی زمین پر کچھ غیر مسلم خاندان آباد ھے اور کچھ دوکاندار بھی ھیں جو تقریباً 40 سال اسی زمین پر دوکان چلاتے آ رھیں ھیں ان مسجد کمیٹی نے زمین کے مالکان میں سے کسی ایک کے ساتھ اس زمین کے خریدنے کا مواحدہ کر لیا جب کے زمین کے موجودہ ایک حصہ کے مالک کے والد نے 40 سال قبل دوکانداروں سے مواحدہ کیا ھوا ھے اس زمین میں کئی خاندان اپنا دعویٰ اور حق جتاتے ھیں مزید اس زمین پر پارٹیشن شورٹ کا بھی مقدمہ درج ھے کیا ایسی زمین پر مسجد کی تعمیر اور توسیع کی جا سکتی ھے مسجد کمیٹی نے بے غیر اعجازت دوکاندار کے دوکان پر بورڑ بھی لگا دیا ھے جسمیں درج ھے کے یہ زمین مسجد کی ھے جبکے مکان مالک نے کوئی بھی قانونی نوٹس اس متعلق ابھی تک جاری نہیں کی نیز مسجد کے اعتراف میں رھنے والے غیر مسلم خاندان بھی دبے الفاظ میں مخالفت کر رھیں ھیں اعلی جناب شریعت کے رو سے بتایئں کے مسجد کمیٹی کے یہ محم کھاں تک جائز ھے اور کیا ایسی زمین پر مسجد کی تعمیر جائیز ھے یا نہیں؟؟

براہ کرم


Jawaab:

بسم الله الرحمن الرحيم


ایسی زمین کہ جس پر دعوی ہو کہ ہماری ہے
یا یہ زمین متنازعہ ہے ایسی زمین پر مسجد نہیں بناسکتے
مسجد کی زمین صاف اور غیر متنازعہ ہو
و السلام

Wallahu Ta’ala A’lam.
-Mufti Sanaullah Qasmi


Posted on 08 March 2018